Friday, 18 September 2015

تم کیا ہو

آج جمعہ کی نماز کی دوران شیخ صاحب خطبہ فرما رہے تھے چند ایک سوال انہوں نے ہم سے کیے جو یقینی طور پہ میرے دل میں بھی تھے
کیا نبی کریم صلی اللہ وآلہ وسلم بریلوی تھے، دیوبندی تھے ، شیعہ تھے یا حنفی تھے اور ان کے صحابہ اکرام بھی انہیں فرقوں سے تعلق رکھتے تھے
یا وہ صرف مسلمان تھے
کیا کسی حدیث میں یا کسی صحابی نے مسجد کا نام فرقے کے نام پہ رکھا ہو یا امام بارگاہ کا تصور حضرت علی نے دیا ہو ؟ کیا ہے کون ہو تم صرف فساد کی جڑ
تفرقہ ڈالنے والے ، نفرتیں پیدا کرنیوالے
تمھیں مسلمان ہونا چاہیے وہ نہیں ہو باقی سب کچھ ہو
اس فرقہ بندی نے سوا تکبر کے کیا دیا ہمیں جس کسی سے سوال کرو وہ یہ جواب دے گا۔
" میں کٹر بریلوی ہوں جی"
اچھا میں کٹر دیوبندی ہوں"
لو میں تو کٹر شیعہ ہوں جی"
کوئی نہیں کہے گا ہم مسلمان ہیں فرقہ اہمیت رکھتا ہے شاید مذہب نہیں
قرآن اور حدیث میں جو کچھ کہا گیا وہی قابل عمل ہے اور ہونا چاہیے تب ہی ہم نجات پا سکتے ہیں اور یہ تکبرانہ فعل اور منافرت پھیلانے کے کام سوا نفرت کے کچھ نہیں دیں گے
اگر کوئی تمھاری غلطی کی نشاندہی کرے تو اس کو بتاو کہ میں اپنی اصلاح کروں گا نہ کہ اس کو اس کی برائیاں گنوانا شروع کردو ۔ الزام برائے الزام نہ کھیلیں اصلاح کا پہلو تلاش کریں اور دوسروں کے عیب کی پردہ پوشی کریں اچھالیں نہیں ۔
اللہ نے قرآن کریم کی صورت اپنا کلام نازل کیا اسوہ حسنہ اور احادیث ہمیں اس کی تشریح بتاتی ہیں۔ اور ایک بات اللہ نے مسجدوں کو آباد کرنے کا کہا ہے امام بارگاہ یا دیوبندی مسجد نہیں کہا ۔ حسین  سے محبت ہے تو حسین کے نانا کی سنت اور حدیث پہ عمل کرو اس کے صحابہ کی عزت کرو صرف مسلک کی خاطر اللہ کے محبوب کو ناراض نہ کرو نبی وہی ہیں اور اس کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تاقیامت اس بات کو رگ رگ میں  جذب  کرلو کہ نجات صرف نبی کریم کی پیروی اور اللہ کی اطاعت میں ہے
یہ باتیں لکھنے کا مقصد کسی بھی فرقے کی دل آزاری کرنا نہیں مقصود چند ایک سوال تھے بس کہ مسلمان بنیں ہو سکے تو فرقہ کو اہمیت نہ دیں اللہ اور اس کے نبی کریم صلی اللہ وآلہ وسلم کی بات مانیں
اللہ ہم سب کو ہدایت دے اورنفرت کے جو بیج ہم بو چکے کسی طرح وہ نفرت کی فصل غرق ہو جائے
آمین ثم آمین

Friday, 12 June 2015

"ہیرو صرف مسلمان ہونا چاہیے"

آج سے کافی سال پہلے کراچی جانے کا اتفاق ہوا ۔ رخت سفر باندھا اور بزریعہ ٹرین روانہ ہوگیا ۔ وہاں پہ ایک دوست سے رابطہ تھا میں کوئی مغرب کے وقت کراچی اسٹیشن  پہنچا تو موصوف ہمیں لینے نہیں آئے تھے ۔ فون پہ رابطہ کیا کہ "یار کہاں ہو تم؟ ' اس نے جواب دیا کہ میں تھوڑی دیر تک آ جاتا ہوں آپ بھینس کالونی اس ایڈریس پہ پہنچ جائیں ایک کریانے کی دوکان ہے اسی کے پاس مکان کی چابی بھی ہے اور وہی تمھیں مکان کی نشاندہی بھی کردے گا امید ہے میں بھی اس وقت تک فارغ ہو کے پہنچ جاوں گا ۔ خیر اسٹیشن سے دو تین رکشے اور ٹیکسی والوں سے بات کی آخر ایک رکشے والے سے کرایہ طے ہو گیا اور میں بھینس کالونی میں اس کے بتائے ایڈریس پہ پہنچ گیا -کریانے والے سے اس نے فون کر کے پہلے ہی کہا ہوا تھا اسلیے مجھے بغیر کسی وضاحت کے چابی مل گی۔لیکن مکان پہ پہنچا تو دروازہ پہلے سے کھلا ہوا تھا ٹی وی اور وی سی آر ٹیبل پہ سیٹ کرکے رکھا ہوا تھا - میں نے اپنا سامان سائیڈ پہ رکھا اور نہانا شروع کردیا-اتنی دیر میں وہ دوست بھی آ گیا اور ہم بیٹھ کے گپ شپ لگانے لگ گئے -میں نے وی سی آر کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا " یار یہاں پاس ہی درس ہے تو اس میں پڑھنے والے کچھ طلبا کبھی کبھار آ جاتے ہیں اور فلمیں دیکھتے ہیں  یہ وہی کرائے پہ لائے ہیں" ہم کچھ  دیر گپ شپ کرنےکے بعد کھانا کھانے چلے گئے اور جب واپس آئے تو مدرسے کے طالب علم سر پہ ٹوپیاں پہنے صف بندی کرکے ٹی وی کے سامنے بیٹھے ہوئے اور شاہ رخ خان کی فلم لگا رکھی تھی - دوست کچھ دیر کے بعد سو گیا لیکن مجھے نیند نہ ائی تو میں ان کے پاس بیٹھ گیا اور پوچھنا شروع کردیا کہ کون کون سی فلمیں لائے ہیں ؟ چھ فلمیں تھیں کل اور ساری سلمان خان ، عامر خان اور شاہ رخ خان کی تھیں - میں نے ایسے ہی ایک لڑکے سے پوچھا' یار آپ نانا پاٹیکر کی کوئی فلم لے آتے اچھا اداکار ہے وہ بھی! اس بات کا اس نے تھوڑے سے سخت لہجے سے جواب دیاکہ "ہمیں وہ پسند نہیں ہے" 
میں نے تھوڑی دیر کے بعد پھر اسی سے کہا" تو آپ اجے دیوگن کی ہی کوئی فلم لے آتے اس کی فلمیں بھی اچھی ہوتی ہیں" 
اس بار اس کے ساتھ والے دو لڑکے اور بھی بول پڑے " بھائی ہم وہ فلم نہیں دیکھتے جس میں ہیرو ہندو ہو ، ہم مسلمان ہیرو کی فلم دیکھتے ہیں بس،ـ مجھے اس جواب ٌ پہ تھوڑی سی حیرانی ہوئی کہ آخر ہندو اور مسلمان ہیرو کا کیا چکر ہے مجھ سے یہ بات ہضم نہیں ہو رہی تھی میں نے پھر پوچھ لیا' بھائی آپ نے دیکھنی تو فلم ہی ہے تو اچھی فلم دیکھیں کسی اچھے اداکار کی ؟" اس بات پہ انہوں نے وی سی آر بند کر دیا اور ان میں سے جو زرا زیادہ عمر کا تھا اس نے مجھ سے سوال کیا 'کیا تم مسلمان ہو؟ اور پاکستانی بھی ہو؟ "
میں نے کہا الحمدللہ بھائی میں مسلمان بھی ہوں اور پاکستانی بھی یہاں لاھور سے آیا ہوں کسی کام کے سلسلے میں لیکن آپ لوگوں نے یہ کیسا عجیب سوال کیا ہے؟ُ' ان میں سے ایک لڑکا بولا " یار آپ کو نی پتہ ہندو ہیرو کی فلم دیکھنا گناہ ہے فلم وہ دیکھنی چاہیے جس میں ہیرو مسلمان ہو اور ہیروئین ہندو ہو ہم اسلیے ہندو ہیرو کی بجائے ان مسلمان اداکاروں کی فلمیں دیکھتے ہیں تا کہ گناہ نہ ہو" اور میں ان کا جواب سن کے چپ تھا۔۔ ان میں سے ایک نے پھر کہا " غیرت ایمانی کا تقاضہ ہے کہ ہم ہندو ہیرو کی فلم نہ دیکھیں ہمارے مولانا صاحب نے سختی سے منع کیا ہے' اور اس کے اس جواب کے بعد میں نے مزید کوئی بحث نہیں کی اور خاموشی سے لیٹ کے سوچنے لگ گیا ان کی اسلام اور پاکستان سے محبت کتنی گہری ہے اور کافروں کے مقابلے میں کتنا پختہ ایمان ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔