آج سے کافی سال پہلے کراچی جانے کا اتفاق ہوا ۔ رخت سفر باندھا اور بزریعہ ٹرین روانہ ہوگیا ۔ وہاں پہ ایک دوست سے رابطہ تھا میں کوئی مغرب کے وقت کراچی اسٹیشن پہنچا تو موصوف ہمیں لینے نہیں آئے تھے ۔ فون پہ رابطہ کیا کہ "یار کہاں ہو تم؟ ' اس نے جواب دیا کہ میں تھوڑی دیر تک آ جاتا ہوں آپ بھینس کالونی اس ایڈریس پہ پہنچ جائیں ایک کریانے کی دوکان ہے اسی کے پاس مکان کی چابی بھی ہے اور وہی تمھیں مکان کی نشاندہی بھی کردے گا امید ہے میں بھی اس وقت تک فارغ ہو کے پہنچ جاوں گا ۔ خیر اسٹیشن سے دو تین رکشے اور ٹیکسی والوں سے بات کی آخر ایک رکشے والے سے کرایہ طے ہو گیا اور میں بھینس کالونی میں اس کے بتائے ایڈریس پہ پہنچ گیا -کریانے والے سے اس نے فون کر کے پہلے ہی کہا ہوا تھا اسلیے مجھے بغیر کسی وضاحت کے چابی مل گی۔لیکن مکان پہ پہنچا تو دروازہ پہلے سے کھلا ہوا تھا ٹی وی اور وی سی آر ٹیبل پہ سیٹ کرکے رکھا ہوا تھا - میں نے اپنا سامان سائیڈ پہ رکھا اور نہانا شروع کردیا-اتنی دیر میں وہ دوست بھی آ گیا اور ہم بیٹھ کے گپ شپ لگانے لگ گئے -میں نے وی سی آر کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا " یار یہاں پاس ہی درس ہے تو اس میں پڑھنے والے کچھ طلبا کبھی کبھار آ جاتے ہیں اور فلمیں دیکھتے ہیں یہ وہی کرائے پہ لائے ہیں" ہم کچھ دیر گپ شپ کرنےکے بعد کھانا کھانے چلے گئے اور جب واپس آئے تو مدرسے کے طالب علم سر پہ ٹوپیاں پہنے صف بندی کرکے ٹی وی کے سامنے بیٹھے ہوئے اور شاہ رخ خان کی فلم لگا رکھی تھی - دوست کچھ دیر کے بعد سو گیا لیکن مجھے نیند نہ ائی تو میں ان کے پاس بیٹھ گیا اور پوچھنا شروع کردیا کہ کون کون سی فلمیں لائے ہیں ؟ چھ فلمیں تھیں کل اور ساری سلمان خان ، عامر خان اور شاہ رخ خان کی تھیں - میں نے ایسے ہی ایک لڑکے سے پوچھا' یار آپ نانا پاٹیکر کی کوئی فلم لے آتے اچھا اداکار ہے وہ بھی! اس بات کا اس نے تھوڑے سے سخت لہجے سے جواب دیاکہ "ہمیں وہ پسند نہیں ہے"
میں نے تھوڑی دیر کے بعد پھر اسی سے کہا" تو آپ اجے دیوگن کی ہی کوئی فلم لے آتے اس کی فلمیں بھی اچھی ہوتی ہیں"
اس بار اس کے ساتھ والے دو لڑکے اور بھی بول پڑے " بھائی ہم وہ فلم نہیں دیکھتے جس میں ہیرو ہندو ہو ، ہم مسلمان ہیرو کی فلم دیکھتے ہیں بس،ـ مجھے اس جواب ٌ پہ تھوڑی سی حیرانی ہوئی کہ آخر ہندو اور مسلمان ہیرو کا کیا چکر ہے مجھ سے یہ بات ہضم نہیں ہو رہی تھی میں نے پھر پوچھ لیا' بھائی آپ نے دیکھنی تو فلم ہی ہے تو اچھی فلم دیکھیں کسی اچھے اداکار کی ؟" اس بات پہ انہوں نے وی سی آر بند کر دیا اور ان میں سے جو زرا زیادہ عمر کا تھا اس نے مجھ سے سوال کیا 'کیا تم مسلمان ہو؟ اور پاکستانی بھی ہو؟ "
میں نے کہا الحمدللہ بھائی میں مسلمان بھی ہوں اور پاکستانی بھی یہاں لاھور سے آیا ہوں کسی کام کے سلسلے میں لیکن آپ لوگوں نے یہ کیسا عجیب سوال کیا ہے؟ُ' ان میں سے ایک لڑکا بولا " یار آپ کو نی پتہ ہندو ہیرو کی فلم دیکھنا گناہ ہے فلم وہ دیکھنی چاہیے جس میں ہیرو مسلمان ہو اور ہیروئین ہندو ہو ہم اسلیے ہندو ہیرو کی بجائے ان مسلمان اداکاروں کی فلمیں دیکھتے ہیں تا کہ گناہ نہ ہو" اور میں ان کا جواب سن کے چپ تھا۔۔ ان میں سے ایک نے پھر کہا " غیرت ایمانی کا تقاضہ ہے کہ ہم ہندو ہیرو کی فلم نہ دیکھیں ہمارے مولانا صاحب نے سختی سے منع کیا ہے' اور اس کے اس جواب کے بعد میں نے مزید کوئی بحث نہیں کی اور خاموشی سے لیٹ کے سوچنے لگ گیا ان کی اسلام اور پاکستان سے محبت کتنی گہری ہے اور کافروں کے مقابلے میں کتنا پختہ ایمان ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔