افواج کسی بھی ملک کی ہوں وہ وطن کی سرحدوں کی محافظ ہوتی ہے۔ فوج کی توجہ کا اصل مرکز جنگی مہارتیں اور اس سے متعلقہ دوسرے پیشہ ورانہ امور ہوتے ہیں۔ لیکن پاکستان کی تاریخ پر نظر دوڑائیں اس مملکت خداداد پہ جمہوری حکومت نے ڈکٹیٹرز کی نسبت کم حکومت کی اور یوں مختلف امور پہ فوج کی گرفت رہی ۔ اسٹیبلشمنٹ میں کہوں گا ایسی مکڑی ہے جو ہمیشہ سے جال بننے کا کام کرتی آئی اور اس جال سے خاصا نقصان بھی ہوا۔ وقفے وقفے سے لگنے والے مارشل لا نے ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور فوج کو بھی سیاست کا ایک چسکا لگ گیا۔ " چھٹتی نہیں ہے کافر یہ منہ کو لگی ہوئی " طاقت کے استعمال کھیل میں بڑے بھائیوں کا پلہ ہمیشہ بھاری رہا کیونکہ ان کو مہرے آسانی سے دستیاب ہو جاتے ہیں بےشک ان کا اچھا استعمال نہ ہو سکے۔ 1971 میں ہم نے مشرقی پاکستان کو کھو دیا اگرچہ سیاستدان اس سانحے سے بری الذمہ قرار نہیں دیے جا سکتے لیکن اصل قصور وار فوج کے وہ سینئر لوگ تھے جنہوں نے نفرت کا ایسا بیج بویا اور اس کا خمیازہ ہتھیار ڈالنے کی صورت بھگتنا پڑا ۔ اور اس کے بعد کارگل کا واقعہ، ایبٹ آباد آپریشن آرمی پبلک سکول کا سانحہ ، نیول ڈاکیارڈ پر حملہ ناکامی کی ان گنت داستانیں لیکن کبھی بھی عوام نے اس طرح سے جواب طلبی نہیں چاہی جس طرح سے ایک سیاستدان یا سیاسی حکومت سے تقاضا کیا جاتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کا وطیرہ ہے کہ سیاستدانوں کو اس انداز سے گندہ کریں کہ عوام یہ بات کہنے پر مجبور ہو جائے کہ فوج ہی اصل نجات دہندہ ہے لیکن کیا یہ کھیل ملک کی سالمیت کے لیے خطرہ نہیں ؟ طاقت اور اقتدار کی ہوس کے اس کھیل میں ریاست کا کتنا نقصان ہے ؟ یہ کبھی کسی نے سوچا ؟
نہیں بالکل بھی نہیں
کسی میڈیا پرسن یا یا چیخ چیخ کے گلہ پھاڑنے والے کسی اینکر نے مشرف یا کیانی صاحب سے یہ پوچھنے کی جرات نہیں کی کہ سوئس اکاؤنٹس میں پیسا کہاں سے آیا؟ آرمی چیف ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے ایسے کیا بزنس تھے کہ سوئس اکاؤنٹس کی ضرورت پر گئی؟ این ایل سی میں کرپشن کے ذمہ داران بریگیڈیئرز کو کیا سزا دی ؟ ان سے کیا پوچھ گچھ کی گئی ؟ نہیں سیاستدانوں پہ جتنا مرضی گند اچھالیں پروپیگنڈہ کریں ، سیاستدانوں کو برداشت کرنا چاہیے۔
اب سی پیک کو ہی لے لیں اس پہ آئی ایس پی آر نے ڈاکومنٹری بنا ڈالی اور اس کا سارا کریڈٹ آرمی کو دینے کی کوشش کی جیسے جمہوری حکومت تو کسی کام کی ہے نہیں اور نہ اس میں وزیراعظم کی کاوشوں کا ذکر؟ سیکورٹی ناکامی پہ بھی گانے ریلیز کر دیے جاتے ہیں ۔
کس ملک کی آرمی ہاؤسنگ سوسائیٹیز میں پیسا لگتی ہے ؟ یا اپنے بنک یا فوڈ چین بناتی ہے ؟ ماسوائے پاکستان کے کہیں ایسا ہوتا نظر نہیں آئیگا۔
اب مہروں کی بات کریں تو خان صاحب الگ مہرہ ہیں اور طاہر القادری الگ۔ مصطفٰی کمال الگ لیکن تینوں نے وہ کامیابی حاصل نہیں کی جس کی توقع بڑے بھائیوں نے کی۔ مشرف جیسے ڈکٹیٹر کے ریفرنڈم کی حمایت کرنے والے خان جی اب جمہوریت کا راگ الاپتے نہیں تھکتے ایسی جمہوری حکومت چاہیے ان کو جس میں وہ وزیراعظم ہوں باقی جو مرضی ہو۔
یہ سارا کھیل تماشا صرف اسلیے لگایا جاتا کیونکہ *طاقتور جمہوری وزیراعظم پسند نہیں ۔ پچھلے دھرنے کے دوران ایک بریگیڈیئر نے کہا تھا " حکومت کو رخصت نہیں کرنا بس ذلیل کرنا ہے اور ہر اس وقت ذلیل کریں گے جب نواز شریف پر پرزے نکالنے کی کوشش کرے گا"
یہ جملہ مجموعی طور پہ جمہوری حکومت کے لیے بےپناہ محبت کو ظاہر کرتا ہے۔ اسلیے تو کچھ نجی ٹی وی چینلز دن رات مصروف عمل ہیں لیکن 1999 کی نسبت اب کچھ شعور زیادہ اجاگر ہوا ہے۔ بہتر ہے کہ سارے ادارے ملکر اس ملک کے لیے کام کریں اپنی خامیوں کا ادراک کریں اپنا محاسبہ کریں تو شاید پھانسی کے دو سال بعد بری کا حکم دینے والی معزز عدالت کچھ انصاف کر سکے اور ڈی ایچ اے کے لیے مزارعین کی زمینوں پہ قبضہ بھی نہیں کرنا پڑے گا۔
انتشار کی سیاست کی بجائے تعمیری اور تنقیدی سیاست ہو جو ملک کو بہتری کی جانب گامزن کرے۔ باقی آئین کی حفاظت کی قسم کھانیوالے اگر صحیح معنوں میں حفاظت کریں تو نہ کوئی بھٹو پھانسی چڑھے گا نہ کوئی نواز شریف جلا وطن ہوگا اور نہ کسی کے کمر کے بل دبئی جا کے نکلیں گے۔
Friday, 21 October 2016
آئینی حق اور فرض
Saturday, 3 September 2016
انسان نے ترقی کر لی ہے ؟
انسان نے ترقی کر لی ہے ؟
بات پہ بات لوگ محاورہ استعمال کرتے ہیں "دنیا چاند پہ پہنچ گئی ہے اور آپ ابھی یہیں تک ہیں" لیکن کیا صرف سپیڈ کے بڑھنے کو ہم ترقی کہہ سکتے ہیں ؟ کیا منٹوں کا کام سیکنڈوں میں کرنے کو ہم ترقی کہہ سکتے ہیں ۔ ترقی ہوئی یا تنزلی ؟ پہلے انسان آپس میں لڑتے تو پھر بھی بچنے کی امید ہوتی تھی لیکن اب آپ سامنے والے کو گولی مار سکتے ہیں اور وہ اپنے دفاع میں کچھ نہیں کر سکتا ۔
انسان کا وحشی پن تو ویسے کا ویسے ہی ہے ۔ ابھی بھی قتل کرتا ہے ۔ زنا بالجبر کرتا ہے آئے روز اخبار میں خبر سننے کو ملتی ہے "پانچ سال کی بچی زیادتی کے بعد قتل " کیا یہ انہونی نہیں ہو رہی ہیں انسان پہلے بھی ایسا تھا اب بھی ایسا ہی ۔ وحشی درندہ ، جاہل ۔۔
تو صاحبو اس تنزلی کو ترقی نہ کہیں ۔ ترقی تب ہو گی جب انسانی رویے بدلیں گے جب تک یہ نہیں ہوتا ترقی نہیں ہے۔
پہیے کی ایجاد نے سپیڈ بڑھا دی ۔۔انسان جذبات سے بالاتر ہوتا گیا اور کسی مشین کی طرح کام کرنے لگا ۔ ہمارے پاس وقت ہی نہیں ہے دوسروں کے لیے تو درکنار ہمارے پاس تو اپنے لیے بھی وقت نہیں ہے ۔ ایک بےسمت دوڑ لگا رکھی ہے سمت کا تعین نہیں کر پایا بس دوڑتا جا رہا ہے ۔
ذرا سوچیے انسان پہلے کی نسبت زیادہ دغاباز ہو گیا مکر و فریب میں تیز ہو گیا لیکن ہے وہیں کا وہیں جہاں پہ تھا ۔ تو بدلا کیا ہے آج لاھور میں اس وقت ایک رنگا رنگ تقریب جاری ہے کل مردان میں اتنے لوگ شہید ہوئے ہیں اور ایک بچہ آج دم توڑ گیا ایمبولینس کو راستہ نہ ملا ٹریفک میں پھنس گئی تو وہ جو راستہ نہیں دے رہے تھے کیا وہ انسان نہیں تھے کیا ان کے بچے نہیں اگر اس بچے کی جگہ حکمران یا اپوزیشن طبقے کے کسی فرد کا بچہ ہوتا ۔۔شہباز شریف ۔عمران خان ۔شاہ محمود یا کسی اور فرد کا بچہ ہوتا تو تب بھی یہی کچھ ہوتا نہیں ایک قیامت برپا ہوتی ۔میڈیا چیخ رہا ہوتا اینکرز مگر مچھ کے آنسو بہا رہے ہوتے ۔ لیکن بات انسانی جان کی نہیں بات یہ ہے کہ مرا کون ہے غریب ہے تو خیر ہے امیر ہے تو رویے بدل جاتے ہیں ۔ یہ تو تب بھی تھا جب انسان لباس کی صورت میں درختوں کے پتے استعمال کرتا تھا۔ اتنی صدیوں کا سفر کر کے وہیں پہ کھڑا جہاں سے چلا تھا۔ ترقی نہیں ہوئی ابھی صاحبو صرف سپیڈ بڑھ گئی ہے اور تنزلی ہوئی ہے ۔
انسان ویسے کا ویسا ہی وحشی درندہ جاہل