قانون پہ عملدرآمد
میں کوئی قانون کا طالب علم تو نہیں ہوں لیکن اکثر سوچتا ہوں کہ قانون کی پابندی کرنا ایک عام آدمی کے طور پہ کتنا ضروری ہے ۔
کسی ریاست میں رہتے ہوئے اس کے قانون اور آئین کی پابندی ہم سب پہ لازم ہے ۔ کہیں زیادتی اور ناانصافی کے خلاف قانون کو ہاتھ میں لینے والے ہمیشہ غلط ہوتے ہیں ۔
کسی انسان کی غلطی کی سزا اگر آپ خود سے دینا شروع کر دیں یا ذہنی طور پہ یہ سوچ لیں کہ اس کی سزا یہ ہونی چاہیے تو ہم اس وقت جُرم سے نفرت کا اظہار نہیں کر رہے ہوتے بلکہ ہمیں اس وقت مجرم سے نفرت ہوتی ہے اور اسی نفرت کو ذہن میں رکھ کر ہم سزا کا تعین شروع کر دیتے ہیں ۔ طالبان ایک سوچ ہے جو تشدد کی عکاسی کرتی ہے ۔ انہوں نے بھی یہی کیا یعنی جو سوچا اس کے مطابق دوسروں کو ڈھالنے کے لیے متشدد راستہ اپنایا اور اس کے نفاذ کے لیے لوگوں کے سرعام گلے کاٹنا جائز سمجھا گیا جس کی باقاعدہ طور پہ ویڈیو بھی بھیجی جاتی رہیں تا کہ لوگوں میں خوف و ہراس پھیلے اور وہ اس ڈر کی وجہ سے ہمارے ساتھ ہوں ، جب آپ کسی کا ساتھ صرف اس کے ڈر کی وجہ سے دیتے ہیں تو حقیقی طور پہ آپ اس کے اقدام کی نفی کر رہے ہوتے ہیں کہ یہ غلط ہے لیکن میں کسی ڈر کی وجہ سے اس کے ساتھ ہوں اسی ڈر اور دھونس کو ڈکٹیٹرشپ کہا جاتا ہے ۔ ہم پاکستان میں رہتے ہیں جہاں ڈکٹیٹرشپ کے چار ادوار گزرے ہیں اور انہوں نے اپنی دھونس کے ذریعے معاملات کو چلانے کی بھرپور کوشش کی ، وقتی طور پہ اس کو لوگوں نے نجات دہندہ بھی قرار دیا لیکن ایسا بالکل بھی نہیں کیونکہ ڈکٹیٹر قانون پہ خود عمل نہیں کرتا تو وہ دوسروں سے کیا عمل کروائے گا وہ صرف وہی کچھ کروا سکتا جو زبردستی کروا سکے اور جو قانون اسکے مفاد میں اور اقتدار کو طوالت دے ۔ پاکستان ایک مکمل آزاد ریاست نہیں ہے خیر ان دنوں تو جو رتی برابر تھی وہ آزادی بھی ختم ہو چکی ہے کیونکہ گزشتہ دو سال میں جس طرح سے عدلیہ کو استعمال کرتے ہوئے قانون کی دھجیاں اڑائیں گئی ہیں وہ کسی سے بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں لیکن سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ ہر غیر قانونی کام کا دفاع کرنیوالے بھی ماجود ہیںاور وہ اس دفاع کو بخوبی سرانجام دے رہے ہیں ۔ میڈیا پہ پابندی کون لگاتا ہے ؟ کون ہے جو مختلف نجی چینلز پہ دن رات سیاستدانوں کے خلاف پراپیگنڈہ کرواتا ہے تا کہ عوام کو یہ بات باور کروائی جا سکے کہ سیاستدان ہی اصل قصوروار ہیں اور ہم نجات دہندہ ۔ کیا مُلک کی اعلی عدلیہ قانون کی پابندی کرنے اور انصاف کی فراہمی میں مکمل طور پہ ناکام نہیں نظر آتی ؟ کیا ریاستی ادارے پارلیمنٹ کو مدد فراہم کرتے نظر آتے ہیں یا مداخلت کرتے نظر آتے ہیں ؟ کیا دو ہزار تیرہ اور دو ہزار اٹھارہ کے پاکستان میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ صرف اتنا سوچیں جنرل ظہیرالسلام نے جو جمہوری حکومت کو گرانے کے لیے کیا اس پہ نواز شریف کو چاہیے نہیں تھا کہ کورٹ مارشل کی سفارش کرتے ؟ جنرل اسد درانی کے خلاف جو انکوائری تھی وہ بھی اب کسی کو یاد نہیں کتنے میڈیا چینلز نے اس پہ پروگرام کیے ؟ الیکشن میں جس طرح من پسند نتائج دکھانے کی راہ ہموار کی گئی ؟مشرف کو جس طرح سے عدالتی نظام سے چھٹکارا دلایا گیا اور نیب میں ریلوے کرپشن کیسز میں نامزد جنرلز اب تک پیش نہیں ہوئے یا جس طرح سے ہوئے یہ سب قانون کی نہیں بلکہ لاقانونیت کی مثال ہیں ۔ جس دن آئین اور قانون کی پابندی عام آدمی کے ساتھ ساتھ عدلیہ اور آرمی نے بھی شروع کر دی یقین مانیں یہ مُلک ترقی کرنا شروع کر دے گا لیکن اس وقت تک ترقی اور معاشرتی نظام میں بہتری صرف ایک دیوانے کا خواب ہے اور کچھ بھی نہیں ۔