Monday, 25 March 2019

قانون پہ عملدرآمد

قانون  پہ عملدرآمد 
میں کوئی قانون کا طالب علم تو نہیں ہوں لیکن اکثر سوچتا ہوں کہ قانون کی پابندی کرنا ایک عام آدمی کے طور پہ کتنا ضروری ہے ۔ 
کسی ریاست میں رہتے ہوئے اس کے قانون اور آئین کی پابندی ہم سب پہ لازم ہے ۔ کہیں زیادتی اور ناانصافی کے خلاف قانون کو ہاتھ میں لینے والے ہمیشہ غلط ہوتے ہیں ۔ 

کسی انسان کی غلطی کی سزا اگر آپ خود سے دینا شروع کر دیں یا ذہنی طور پہ یہ سوچ لیں کہ اس کی سزا یہ ہونی چاہیے تو ہم اس وقت جُرم سے نفرت کا اظہار نہیں کر رہے ہوتے بلکہ ہمیں اس وقت مجرم سے نفرت ہوتی ہے اور اسی نفرت کو ذہن میں رکھ کر ہم سزا کا تعین شروع کر دیتے ہیں ۔ طالبان  ایک سوچ ہے جو تشدد کی عکاسی کرتی ہے ۔ انہوں نے بھی یہی کیا یعنی جو سوچا اس کے مطابق دوسروں کو ڈھالنے کے لیے متشدد راستہ اپنایا اور اس کے نفاذ کے لیے لوگوں کے سرعام گلے کاٹنا جائز سمجھا گیا جس کی باقاعدہ طور پہ ویڈیو بھی بھیجی جاتی رہیں تا کہ لوگوں میں خوف و ہراس پھیلے اور وہ اس ڈر کی وجہ سے ہمارے ساتھ ہوں ، جب آپ کسی کا ساتھ صرف اس کے ڈر کی وجہ سے دیتے ہیں تو حقیقی طور پہ آپ اس کے اقدام کی نفی کر رہے ہوتے ہیں کہ یہ غلط ہے لیکن میں کسی ڈر کی وجہ سے اس کے ساتھ ہوں اسی ڈر اور دھونس کو ڈکٹیٹرشپ کہا جاتا ہے ۔ ہم پاکستان میں رہتے ہیں جہاں ڈکٹیٹرشپ کے چار ادوار گزرے ہیں اور انہوں نے اپنی دھونس کے ذریعے معاملات کو چلانے کی بھرپور کوشش کی ، وقتی طور پہ اس کو لوگوں نے نجات دہندہ بھی قرار دیا لیکن ایسا بالکل بھی نہیں کیونکہ ڈکٹیٹر قانون پہ خود عمل نہیں کرتا تو وہ دوسروں سے کیا عمل کروائے گا وہ صرف وہی کچھ کروا سکتا جو زبردستی کروا سکے اور جو قانون اسکے مفاد میں اور اقتدار کو طوالت دے ۔ پاکستان ایک مکمل آزاد ریاست نہیں ہے خیر ان دنوں تو جو رتی برابر تھی وہ آزادی بھی ختم ہو چکی ہے کیونکہ گزشتہ دو سال میں جس طرح سے عدلیہ کو استعمال کرتے ہوئے قانون کی دھجیاں اڑائیں گئی ہیں وہ کسی سے بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں لیکن سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ ہر غیر قانونی کام کا دفاع کرنیوالے بھی ماجود ہیںاور وہ اس دفاع کو بخوبی سرانجام دے رہے ہیں ۔ میڈیا پہ پابندی  کون لگاتا ہے ؟ کون ہے جو مختلف نجی چینلز پہ دن رات سیاستدانوں کے خلاف پراپیگنڈہ کرواتا ہے تا کہ عوام کو یہ بات باور کروائی جا سکے کہ سیاستدان ہی اصل قصوروار ہیں اور ہم نجات دہندہ ۔ کیا مُلک کی اعلی عدلیہ قانون کی پابندی کرنے اور انصاف کی فراہمی میں مکمل طور پہ ناکام نہیں نظر آتی ؟ کیا ریاستی ادارے پارلیمنٹ کو مدد فراہم کرتے نظر آتے ہیں یا مداخلت کرتے نظر آتے ہیں ؟ کیا دو ہزار تیرہ اور دو ہزار اٹھارہ کے پاکستان میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ صرف اتنا سوچیں جنرل ظہیرالسلام نے جو جمہوری حکومت کو گرانے کے لیے کیا اس پہ نواز شریف کو چاہیے نہیں تھا کہ کورٹ مارشل کی سفارش کرتے ؟ جنرل اسد درانی کے خلاف جو انکوائری تھی وہ بھی اب کسی کو یاد نہیں کتنے میڈیا چینلز نے اس پہ پروگرام کیے ؟  الیکشن میں جس طرح من پسند نتائج دکھانے کی راہ ہموار کی گئی ؟مشرف کو جس طرح سے عدالتی نظام سے چھٹکارا دلایا گیا اور نیب میں ریلوے کرپشن کیسز میں نامزد جنرلز  اب تک پیش نہیں ہوئے یا جس طرح سے ہوئے یہ سب قانون کی نہیں بلکہ لاقانونیت کی مثال ہیں ۔ جس دن آئین اور قانون کی پابندی عام آدمی کے ساتھ ساتھ عدلیہ اور آرمی نے بھی شروع کر دی یقین مانیں یہ مُلک ترقی کرنا شروع کر دے گا لیکن اس وقت تک ترقی اور معاشرتی نظام میں بہتری صرف ایک دیوانے کا خواب ہے اور کچھ بھی نہیں ۔ 

عنوان ملا ہی نہیں

عنوان ملا ہی نہیں
یہ پہلی کاوش ہے بلاگ تو نہیں کہہ سکتے لیکن یہ تحریر کو فرض سمجھ کے لکھنا ضروری سمجھا
29مارچ کو صفہ سکول اوکاڑہ کے زیراہتمام اور جنگ گروپ کے تعاون سے برین آف اوکاڑہ کے مقابلہ ہوا ..جس میں تقریری اور تحریری دونوں مقابلے شامل تھے تقریب کے اختتام پر گلوکار بلال سعید کو پرفارم کرنا تھا جب ان کی پرفارمنس کی باری آئی تو دوسرے گانے کے درمیان میں ہی فرسٹ ائیر اور سیکنڈ ائیر کی طالبات اسٹیج پہ چڑھ گئیں اور بلال سعید کو چومنا شروع کردیا ان میں سے کچھ طالبات نے موصوف کے ہونٹوں پہ اپنے ہونٹ بھی ثبت کیے اور سیکیورٹی اور اساتذہ نہایت تحمل سے یہ مظاہرہ دیکھتے رہے یہ تھا ایک رخ اور اب اس سے ایک مہینہ قبل جو واقعہ ہوا اسی سکول میں وہ پیش خدمت ہے
سکول کی ایک خاتون ٹیچر نے طالبات کے ایک گروپ کو تھوڑی سی نصیحت کی "بیٹا جب مرد ٹیچر موجود ہوں تو آپ اپنا سینہ ڈھانپ لیا کریں لازمی طور پہ اگر آپ سر پہ دوپٹہ نہیں لینا چاہتے" طالبات نے اس خاتون ٹیچر کی شکایت انتظامیہ کو کردی کہ "ٹیچر نے ہمیں کہا ہے آپ سکول میں حجاب کیا کریں"
صفہ سکول انتظامیہ نے اس خاتون ٹیچر کو طلب کرلیا اور اس کی خوب کلاس لی گئی حیرت کی بات یہ ہے کہ انتظامیہ میں سے دو خواتین کے ریمارکس بہت عمدہ تھے ایک خاتون نے کہا" میڈم یہ سکول ہے مدرسہ نہیں اور نہ آپ اسے مدرسہ بنانے کی کوشش کریں ہم اپنے بچوں کو دہشت گرد نہیں بنانا چاہتے"
اور دوسری خاتون نے کہا" ان بچوں کے ماں باپ کو بھی علم ہے وہ کیسے سکول آتی ہیں دوپٹہ لےکے یا اس کے بغیر اگر ماں باپ کو پرواہ نہیں ہے تو ہم ان کی عزت پہ چادر نہیں تان سکتے یہ ہماری ذمہ داری نہیں ہے" اور اگر آپ نے یہی کچھ کرنا ہے تو کوئی مدرسہ جوائن کر لیں"

جب سے واقعہ علم میں آیا ہے سوچ رہا ہوں کہ ہمارا معاشرہ کتنا ترقی کرچکا ہے اور ہم کتنے آزاد خیال بن رہے ہیں