Monday, 25 March 2019

عنوان ملا ہی نہیں

عنوان ملا ہی نہیں
یہ پہلی کاوش ہے بلاگ تو نہیں کہہ سکتے لیکن یہ تحریر کو فرض سمجھ کے لکھنا ضروری سمجھا
29مارچ کو صفہ سکول اوکاڑہ کے زیراہتمام اور جنگ گروپ کے تعاون سے برین آف اوکاڑہ کے مقابلہ ہوا ..جس میں تقریری اور تحریری دونوں مقابلے شامل تھے تقریب کے اختتام پر گلوکار بلال سعید کو پرفارم کرنا تھا جب ان کی پرفارمنس کی باری آئی تو دوسرے گانے کے درمیان میں ہی فرسٹ ائیر اور سیکنڈ ائیر کی طالبات اسٹیج پہ چڑھ گئیں اور بلال سعید کو چومنا شروع کردیا ان میں سے کچھ طالبات نے موصوف کے ہونٹوں پہ اپنے ہونٹ بھی ثبت کیے اور سیکیورٹی اور اساتذہ نہایت تحمل سے یہ مظاہرہ دیکھتے رہے یہ تھا ایک رخ اور اب اس سے ایک مہینہ قبل جو واقعہ ہوا اسی سکول میں وہ پیش خدمت ہے
سکول کی ایک خاتون ٹیچر نے طالبات کے ایک گروپ کو تھوڑی سی نصیحت کی "بیٹا جب مرد ٹیچر موجود ہوں تو آپ اپنا سینہ ڈھانپ لیا کریں لازمی طور پہ اگر آپ سر پہ دوپٹہ نہیں لینا چاہتے" طالبات نے اس خاتون ٹیچر کی شکایت انتظامیہ کو کردی کہ "ٹیچر نے ہمیں کہا ہے آپ سکول میں حجاب کیا کریں"
صفہ سکول انتظامیہ نے اس خاتون ٹیچر کو طلب کرلیا اور اس کی خوب کلاس لی گئی حیرت کی بات یہ ہے کہ انتظامیہ میں سے دو خواتین کے ریمارکس بہت عمدہ تھے ایک خاتون نے کہا" میڈم یہ سکول ہے مدرسہ نہیں اور نہ آپ اسے مدرسہ بنانے کی کوشش کریں ہم اپنے بچوں کو دہشت گرد نہیں بنانا چاہتے"
اور دوسری خاتون نے کہا" ان بچوں کے ماں باپ کو بھی علم ہے وہ کیسے سکول آتی ہیں دوپٹہ لےکے یا اس کے بغیر اگر ماں باپ کو پرواہ نہیں ہے تو ہم ان کی عزت پہ چادر نہیں تان سکتے یہ ہماری ذمہ داری نہیں ہے" اور اگر آپ نے یہی کچھ کرنا ہے تو کوئی مدرسہ جوائن کر لیں"

جب سے واقعہ علم میں آیا ہے سوچ رہا ہوں کہ ہمارا معاشرہ کتنا ترقی کرچکا ہے اور ہم کتنے آزاد خیال بن رہے ہیں 

No comments:

Post a Comment