پڑھائی کی غرض سے شہر آنے کے بعد گاؤں سے تعلق ایک واجبی سا رہ جاتا- اکثریت ایسا ہی کرتی ہے میں بھی ایسا ہی نکلا کہ پلٹ کے جانا کم ہی نصیب ہوتا- پچھلے دنوں ایک صحافی نے جب میری نانی اماں کا انٹرویو کرنا چاہا تو میں نے بھی سوچا کہ نانی اماں سے کہتا ہوں کہ نانی جب آپ لوگ آئے تو کیا عالم تھا اور کیسا لگ رہا تھا - یقین مانیں جب میں نے نانی اماں سے یہ سوال کیا تو جیسے کوئی زخم کو کریدتا ہے تو ہائے نکلتی ہے کچھ ویسا ہی انہوں نے جواب دیا اور پھر کہنے لگیں "ایہہ سون بھادوں دے دو مہینے کدی نی بُھل سکدے سانوں" اور پھر انہوں نے بتایا کہ عید کا دن تھا جب فیروز پور کے ایک گاوں دولت پورہ میں نماز عید سے پہلے ہم سویاں بنا رہے تھے کہ مسجد میں اعلان کیا گیا اپنا سامان جو کچھ ساتھ لے سکتے ہیں لے لیں اور گاؤں خالی کر کے نکل جائیں - اس اعلان سے دو دن قبل میرا چچا سراج الدین جو کہ فیروز پور میں تھانیدار تھا اس نے کہا کہ حالات خراب ہیں زیورات وغیرہ شِندے مہاجن کی دوکان پہ رکھوا دیں حالات بہتر ہوئے تو واپس لے لیں گے- جب میرے چھوٹے چچا اعلان کے بعد مہاجن کی دوکان پہ گئے تو اس نے کہا کہ میں شہر جمع کروا آیا تھا دو دن بعد ہی مل سکیں گے- اور پھر ایک لوہے کا ٹرنک جو کہ فیروز پور سے پانچ روپے میں خریدا تھا اس میں جتنے کپڑے آ سکتے تھے ڈال لیے اور بیل گاڑی پہ بیٹھ گئے-ہمارے صحن میں ڈیڑھ سو من کے قریب سفید چنے پڑے ہوئے تھے اور اس کے علاوہ چاندی کے روپے جو میرے والد نے سرھانے میں چھپا کے رکھے تھے زمین میں دبا دیے کہ چند دن بعد واپس آ ہی جانا ہے نکال لیں گے- بھلا ایسے کیسے ہمارا گھر کسی اور کا ہو جائیگا ہم ایک سو بیس کے قریب لوگوں کا قافلہ نکل پڑا اور ساتھ والا سکھوں کا جو گاوں تھا انہوں نے دولت پورہ پر حملہ کر دیا لوٹ مار کی ، لڑکیوں کو اٹھا لیا اور ہمارے خاندان کے انیس افراد شہید کر دیے گئے- قافلے کے ساتھ جو نوجوان لڑکیاں تھیں انہوں نے اپنے بال کاٹ لیے اور ہاتھ ، منہ اور پاوں پہ مٹی اور سیاہی لگا لی کہ بدصورت نظر آئیں -
جب ہم ہیڈ سلیمانکی پہنچے تو انہوں نے ہمیں واپس بھیج دیا کہ یہاں سے آپ داخل نہیں ہو سکتے آپ لوگ گنڈا سنگھ سے داخل ہو سکتے ہیں- ہم لوگ گنڈا سنگھ کی طرف روانہ ہوئے تو میرے سسرال کے کچھ لوگ قافلے کی حفاظت کے لیے گنڈا سنگھ تک ساتھ آئے اور ہم نے پاکستان کی سر زمین پر قدم رکھا- یہاں آنے کے بعد جس گاوں میں جائیں کوئی ہمیں داخل نہ ہونے دے کہ یہ لوگ قبضہ کر لیں گے -اور پھر پتوکی کے قریب ایک نہر تک پہنچے اور ڈیڑھ ماہ وہیں بیٹھے رہے حتی کہ راشن ختم ہو گیا اور اچھی اور سبز گھاس کو نمک اور پانی میں پکا کر کئی دن تک گزارہ کیا اور اسکے بعد میاں چنوں کے قریب ایک گاوں میں رہائش کی -
گاوں کا نمبر چورانوے ای بی تھا شاید جب وہاں رہنے لگ گئے تو ایک آدمی نے کہا آپ کی جو زمین وہاں تھی اتنی ہی یہاں الاٹ ہو جائیگی اور وہ اسی چکر میں ہماری سفید گھوڑی اور ایک اونٹ لے گیا اور یہاں تک کہ آخری بار وہ کانوں کی بالیاں بھی لے گیا کہ تحصیلدار پیسے مانگ رہا ہے مزید پھر زمین نام لگائے گا-
جب دیکھا کہ یہاں تو کچھ بھی نہیں مل رہا تو بوریوالہ آ گئے اور یہاں ایک زمیندار نے حصے پر زمین دے دی اور کاشتکاری شروع کر دی- میرا ایک بیٹا تیرہ سال کا تھا جسے دولت پورہ سے نکلتے ہی دفنا آئی تھی- اور وہ رونے لگ گئیں کہ اس ملک کی خاطر ہم سب چھوڑ آئے تھے اور یہاں ہمارا حق تو دینا دور کی بات جو بچا کے لائے تھے وہ بھی چھین لیا گیا-" یہ ہے آزادی کادن جسے ہم منا رہے ہیں نانی اماں کی عمر اس وقت ایک سو دس سال کے قریب قریب ہے - لیکن ابھی بھی وہ ماشااللہ صحت مند ہیں لیکن ان کے بقول بٹوارہ ابھی کل ہی کی بات لگتی ہے اور یہ زخم شاید آخری سانس تک تازہ رہیں- چند دن پہلے بی بی سی اردو اور بی بی سی ہندی پر ان کا ایک نٹرویو چلایا گیا ہے- چودہ اگست والے دن اس وطن کی اہمیت اور اس کے لیے جانیں قربان کرنیوالوں کے بارے میں ضرور سوچیں - یہ مٹی یہ ملک ایسے ہی نہیں بن گیا اس کی بنیادوں میں بہت سے مسلمانوں کا خون ہے-
یہ ان کے انٹرویو کا لنک ہےhttps://web.facebook.com/bbchindi/videos/1678856238812611/
کیا ان قربانیوں کے بعد بھی آج ہمآزاد جمہوری ملک میں سانس لے رہے ہیں تو جواب ہے نہیں
ReplyDelete