Saturday, 1 July 2017

زبان اور ہاتھ کا شر

پاکستان اور انڈیا کے درمیان فائنل میچ جاری تھا ۔ پوری قوم دعا مانگ رہی تھی کہ خدا کرے جیت پاکستان کا مقدر ہو۔ اور بالآخر پاکستان نے وہ میچ جیت لیا اور پوری پاکستانی قوم خوشی سے پھولی نہیں سما رہی تھی۔ ٹاؤن شپ لاھور کے علاقے کا ایک لڑکا  جس کی عمر پندرہ سال تھی اور والدین کا اکلوتا بیٹا تھا وہ بھی چھت پر چڑھ کے رونق دیکھنے لگ گیا اور خوش ہو رہا تھا کہ ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں آنیوالی ایک گولی اس کے سر میں لگی ۔ والدین جنرل ہسپتال لاھور لے گئے لیکن وہ جانبر نہ ہو سکا۔ اس کی والدہ جن کا اب دماغی توازن ٹھیک نہیں سسارا دن ایک ہی بات کا ورد کرتی ہے "خدا کرے پاکستان کدی نہ جِتے " پاکستان کدی نہ جِتے" اور محلے والے چند لوگ اس کے پاس گئے اور اس کے خاوند سے کہا کہ وطن کی محبت کا تقاضا ہے کہ یہ صبر کرے۔ کوئی بتائے گا کیسے صبر کرے کیا وہ اس بات پر غداری کی مرتکب ہے ؟ کیوں جس کی زندگی کا ایک ہی سہارا تھا وہ چھین لیا گیا اتنی بےدردی سے اچانک موت سے وہ کیسے دعا کرے گی ؟ ہم اپنے کسی بھی فوت ہوئے شخص کو بات بات پر یاد کر کے آنسو بہاتے وہ ماں جب ٹی وی پر کرکٹ میچ دیکھے گی کیا وہ لمحے اس کو اپنا بیٹا یاد نہیں آئے گا ۔ ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہمارا ایک عمل ایسا ناقص اور جاہلانہ عمل کسی کی دنیا تباہ کر سکتا ہے ۔ کیونکہ ہم کو خوشی منانے کا بھی ڈھنگ نہیں ہے۔ خدارا بحیثیت انسان اس بارے سوچیں ہمارے اردگرد کوئی ایسا کرتا ہے تو اسے سمجھائیں کہ ہوائی فائرنگ خوشی کے اظہار کا ذریعہ نہیں یہ کسی ماں سے اس کا بیٹا چھین سکتا ہے۔ اس کی دنیا تباہ کر سکتا ہے۔
اور ہم کسی پر بھی غداری اور توہین کا فتویٰ لگانے سے گریز نہیں کرتے ۔ ہم اپنے ذاتی یا سیاسی مفادات کی خاطر کسی کہ زندگی داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ ہم اس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتی ہیں جس کو طائف میں پتھر مار مار کر لہولہان کر دیا گیا تھا لیکن انہوں نے اپنے اوپر پتھر مارنے والوں کو بد دعا نہیں دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا کسی ایک فرقے یا ایک قوم کے لیے نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت اور ختم نبوت پر یقین ہی ہمارا کامل ایمان ہے لیکن اگر اس بات کی آڑ لے کر کوئی بےگناہ انسانی جان چلی جاتی ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے۔ کوئی ذاتی مفاد کسی زمین کے ٹکڑے کے لیے یا سیاسی مفاد کے لیے اس قانون کی آڑ میں دوسرے پر الزام لگا کر اپنا مفاد حاصل کرتا ہے تو وہ کس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت محبت کا دعویٰ کرسکتا ہے۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے "مسلمان کبھی دھوکا نہیں کرتا" ۔ نبی کریم کی سیرت پر عمل کریں ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں خود کو اخلاقی طور پر بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ انسانیت کو اپنے اندر زندہ رکھیں۔ کیونکہ قرآن پاک میں واضح الفاظ میں کہا گیا ہے "تم میں سے بہترین وہ ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہے"
اپنے ہاتھ اور زبان  کے شر سے دوسروں کو محفوظ رکھیں۔

1 comment:

  1. اور مارنے والے کو ساری زندگی نہیں پتہ چلے گا کہ لڑکا اس کی گولی سے مرا

    ReplyDelete